تارکِ وطن میسی: جو دیارِ غیر میں بھی اپنا دیس نہیں بھولا
لیونل میسی نے ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے ساتھ اپنے آخری میچ میں شکست کے بعد جس انداز میں میدان کو الوداع کہا، وہ صرف ایک فٹبالر کی ریٹائرمنٹ کا منظر نہیں تھا بلکہ اپنے وطن سے گہری محبت رکھنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی بھی تھی، جس نے بچپن میں بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ دیا تھا لیکن اپنی جڑوں کو کبھی نہیں بھلایا۔
میچ کے اختتام پر اسٹیڈیم میں جذبات اپنے عروج پر تھے۔ ارجنٹائن کی سرخ جرسی پہنے کھلاڑی ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے، کہیں خوشی تھی تو کہیں شکست کا غم، جبکہ شائقین کی آوازوں سے پورا ماحول گونج رہا تھا۔ اس ہنگامے کے دوران میسی کی نظریں بار بار ان تماشائیوں کی طرف اٹھ رہی تھیں جہاں ارجنٹائن کے شائقین بڑی تعداد میں موجود تھے۔
کچھ لوگوں نے سمجھا کہ میسی غصے کی وجہ سے ایوارڈ کی تقریب سے منہ موڑ رہے تھے، لیکن حقیقت اس سے مختلف تھی۔ وہ اس لمحے کو اپنی یادوں میں محفوظ کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں، شائقین، آوازوں اور اس ماحول کو دل میں بسا لینا چاہتے تھے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ یادیں مستقبل میں ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بنیں گی۔
فائنل ہارنے کا دکھ اپنی جگہ تھا، لیکن ان کے آنسو اس احساس کی وجہ سے بھی تھے کہ ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے ساتھ یہ ان کا آخری میچ تھا۔
میسی کی کہانی لاکھوں تارکین وطن سے ملتی جلتی ہے۔ وہ بچپن میں اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے ارجنٹائن سے اسپین منتقل ہوئے۔ ان کی زندگی کے پہلے 13 سال روزاریو میں گزرے۔ بچپن میں ان میں گروتھ ہارمون کی کمی کی تشخیص ہوئی، جس کے علاج پر کافی رقم خرچ ہوتی تھی اور ان کا خاندان یہ اخراجات برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ مقامی کلب بھی یہ ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہیں ہوا، جس کے بعد بارسلونا نے ان کے علاج کے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
بارسلونا کی نوجوانوں کی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد میسی نے بہت جلد اپنی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا۔ اسی دوران اسپین کی جانب سے انہیں اپنی قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کی پیشکش کے امکانات بھی پیدا ہوئے۔ تاہم میسی اور ان کے خاندان کا ارجنٹائن سے تعلق اتنا مضبوط تھا کہ انہوں نے اسپین کے بجائے ارجنٹائن کی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔ ایک انٹرویو میں کم عمری ہی میں میسی کہہ چکے تھے کہ ان کا خواب ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے لیے کھیلنا ہے۔
ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اس معاملے میں تیزی دکھائی اور میسی کو انڈر 20 ٹیم کی جانب سے ایک دوستانہ میچ میں میدان میں اتارا، تاکہ وہ باضابطہ طور پر ارجنٹائن کی نمائندگی کے پابند ہوجائیں۔ یہ سفر 29 جون 2004 کو شروع ہوا، جب میسی ابھی 17 سال کے ہوئے تھے۔
سینئر قومی ٹیم میں ان کا آغاز اگلے ہی سال ہوا۔ 17 اگست 2005 کو ہنگری کے خلاف دوستانہ میچ میں انہیں دوسرے ہاف میں میدان میں اتارا گیا، لیکن چند ہی لمحوں بعد انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر باہر کردیا گیا۔ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا یہ عجیب آغاز اس بات کا اشارہ تھا کہ ارجنٹائن کے ساتھ ان کا سفر آسان نہیں ہونے والا۔
میسی نے بارسلونا کے ساتھ تقریباً ہر بڑی کامیابی حاصل کی، لیکن ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے ساتھ بڑے اعزازات حاصل کرنے میں انہیں طویل انتظار کرنا پڑا۔ اپنے ہی ملک میں انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا۔ بعض لوگ ان کی قومی ٹیم سے محبت، رویے اور یہاں تک کہ قومی ترانے کے دوران ان کے انداز پر بھی سوال اٹھاتے رہے۔
ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں مسلسل ڈیاگو میراڈونا سے ملایا جاتا تھا۔ وہ بائیں پاؤں سے کھیلتے تھے، ارجنٹائن کی مشہور نمبر 10 شرٹ پہنتے تھے اور میدان میں غیر معمولی صلاحیت دکھاتے تھے، اس لیے میراڈونا سے ان کا موازنہ تقریباً ناگزیر ہوگیا۔ لیکن اس موازنے نے ان پر بہت زیادہ دباؤ بھی ڈال دیا۔

2014 کا ورلڈ کپ میسی اور ارجنٹائن کے لیے ایک بڑا موقع تھا۔ برازیل میں ہونے والے اس ورلڈ کپ میں ارجنٹائن 24 سال بعد فائنل تک پہنچا۔ امیدیں بہت زیادہ تھیں، لیکن جرمنی نے فائنل میں کامیابی حاصل کرکے ارجنٹائن کو ایک بار پھر عالمی اعزاز سے محروم کردیا۔
اس کے بعد مسلسل دو کوپا امریکا فائنلز میں چلی کے ہاتھوں شکست نے میسی کو مزید مایوس کردیا۔ وہ اس قدر دل شکستہ ہوئے کہ انہوں نے قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ تاہم ایک چیمپئن کی طرح انہوں نے جلد ہی اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور دوبارہ ارجنٹائن کی ٹیم میں واپس آگئے۔
روس 2018 کا ورلڈ کپ بھی ارجنٹائن کے لیے زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوا۔ اس مشکل دور کے باوجود میسی نے ہمت نہیں چھوڑی۔ 2019 میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کا اختتام ارجنٹائن کے ساتھ کوئی اعزاز جیت کر کرنا چاہتے ہیں، اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو کم از کم وہ اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق زندگی کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان گرے، دوبارہ اٹھے اور اپنے خواب کے لیے کوشش جاری رکھے۔
آخرکار 2021 میں برازیل میں ہونے والے کوپا امریکا میں میسی نے ارجنٹائن کے ساتھ اپنا پہلا بڑا سینئر اعزاز جیت لیا۔ قومی ٹیم میں قدم رکھنے کے 16 سال بعد حاصل ہونے والی یہ کامیابی ان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان پر موجود دباؤ کافی حد تک کم ہوگیا اور ان کا کھیل مزید کھل کر سامنے آیا۔
پھر قطر میں 2022 کا ورلڈ کپ آیا، جہاں میسی نے وہ اعزاز بھی حاصل کرلیا جس کا ارجنٹائن کے شائقین اور خود میسی کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ان کے خلاف ہونے والی کئی پرانی تنقیدیں بھی ختم ہوگئیں اور ارجنٹائن کے شائقین نے ان کی جدوجہد، عاجزی اور قومی ٹیم سے وفاداری کو بڑے پیمانے پر سراہا۔

38 برس کی عمر میں اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں کھیلتے ہوئے میسی نے ایک بار پھر اہم کردار ادا کیا۔ انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی نے ان کے نام سے جڑے میراڈونا کے ساتھ موازنے میں ایک اور اہم پہلو کو نمایاں کیا۔ تاہم اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں ان کا جسم پہلے جیسی رفتار اور توانائی کا ساتھ نہیں دے سکا، جس کے باعث وہ اپنی معمول کی سطح پر کھیل نہیں سکے اور ارجنٹائن کو مطلوبہ اختتام حاصل نہ ہوسکا۔
اس کے باوجود ان کے پورے کیریئر کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر یہ رائے سامنے آئی کہ میسی فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سب سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
قومی ٹیم سے میسی کی رخصتی ایسے وقت میں ہوئی جب ان کی عمر 39 برس ہوچکی ہے اور ان کے والد خورخے میسی کی وفات نے بھی انہیں گہرا صدمہ پہنچایا۔ والد کے انتقال کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے میسی نے کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ والد کے بغیر زندگی کیسے جاری رکھیں اور یہ بھی تسلیم کیا کہ فٹبال کے حوالے سے وہ مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوالات رکھتے ہیں۔
میسی اب بھی میجر لیگ سوکر میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، لیکن ان کی جانب سے دیے گئے مختلف اشاروں سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ ان کا پیشہ ورانہ فٹبال کا سفر بھی اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
میسی کی کہانی صرف گول، ٹرافیوں اور ریکارڈز کی داستان نہیں۔ یہ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جس نے بیماری اور مالی مشکلات کے باوجود اپنا خواب نہیں چھوڑا، بیرون ملک جاکر دنیا کے عظیم ترین فٹبالرز میں جگہ بنائی، لیکن اپنے ملک کی نمائندگی کو کبھی کسی آسان راستے کے لیے قربان نہیں کیا۔
وہ اسپین کی جانب سے کھیلنے کا انتخاب کرسکتے تھے، مگر انہوں نے ارجنٹائن کو ترجیح دی۔ انہیں برسوں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کئی فائنلز میں شکست ہوئی، ایک موقع پر قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ بھی لی، لیکن پھر واپس آئے اور آخرکار وہ بڑے اعزازات جیتے جن کی ان سے توقع کی جاتی تھی۔
اپنی الوداعی تحریر میں میسی نے اپنے وطن سے تعلق کو ایک مختصر مگر معنی خیز جملے میں بیان کیا: ’’خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ارجنٹائنی بنایا۔‘‘
میسی کی زندگی اس بات کی مثال بن گئی کہ انسان دنیا کے کسی بھی حصے میں جا بسے، اس کی کامیابیوں کا تعلق جہاں سے بھی ہو، لیکن اپنے وطن سے تعلق اور اپنی شناخت کا احساس دل میں قائم رہ سکتا ہے۔ میسی نے ارجنٹائن چھوڑا ضرور تھا، مگر ارجنٹائن کو کبھی اپنے اندر سے نہیں نکالا۔